//

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ وزیر پیٹرولیم نے بتادیا

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث موجودہ حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق فیصلہ کرنا آسان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور حکومت روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں سے متعلق تمام تفصیلات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھی جا رہی ہیں۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ موجودہ پیٹرولیم لیوی ماضی کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک طرف عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب اگر پیٹرول پمپس سے متعلق مسائل پیدا ہوئے تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں کوئی بھی فیصلہ اکیلے نہیں کیا جا سکتا اور حکومت تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے۔

ریفائنری پالیسی کے حوالے سے علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت مقامی ریفائنریز کو فعال رکھنے اور خام تیل لا کر مقامی سطح پر ڈیزل کی پیداوار بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیزل کی درآمد پر انحصار کم کرنا چاہتی ہے اور ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود ریفائنریز نے ماضی میں اہم کردار ادا کیا اور اگر یہ سہولت موجود نہ ہوتی تو موجودہ بحران مزید سنگین ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق نئی ریفائنری پالیسی کے تحت ڈیم ڈیوٹی میں ہر چھ ماہ بعد 2.5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ پریس کانفرنس میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ ہے اور اسی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اعلیٰ سطح پر جنگ بندی اور صورتحال میں بہتری کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close