امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جب بھی امریکا کا دورہ کریں گے، انہیں کسی بھی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کو امریکا میں کسی بھی حالت میں گرفتاری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ شہر کا قانونی محکمہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئیں تو قانون اس حوالے سے کیا اجازت دیتا ہے۔
یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 2024 میں غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے تحت نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ اسرائیل نے آئی سی سی کے اختیار کو تسلیم نہیں کیا اور ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ظہران ممدانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو کو ہیگ میں بین الاقوامی عدالت کا سامنا کرنا چاہیے، جبکہ نیویارک کا قانونی محکمہ اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے کہ قانون کے تحت کیا اقدامات ممکن ہیں۔
نیتن یاہو عام طور پر ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کرتے ہیں، جس کے باعث ان کے ممکنہ دورے پر بحث جاری ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے آئی سی سی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ عدالت کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت 2002 میں قائم ہوئی تھی اور اسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل اس کے رکن ممالک میں شامل نہیں ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






