فیس بک اور انسٹاگرام میں بڑی تبدیلیاں متوقع، میٹا پر بڑا خطرہ منڈلانے لگا

یورپی یونین نے میٹا سے فیس بک اور انسٹاگرام کے نشہ آور فیچرز میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا

یورپی یونین نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کی مبینہ خلاف ورزی پر ابتدائی اعتراضات سامنے رکھتے ہوئے کمپنی سے ایسے فیچرز میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے جو صارفین، خصوصاً کم عمر افراد، کو طویل وقت تک اسکرین سے جوڑے رکھتے ہیں۔

یورپی ریگولیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر میٹا نے آٹو پلے، انفنٹ اسکرول اور حد سے زیادہ ذاتی نوعیت کی سفارشات جیسے فیچرز میں مناسب تبدیلیاں نہ کیں تو کمپنی کو اپنی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام پر ریلز، اسٹوریز، آٹو پلے اور انفنٹ اسکرول جیسے فیچرز صارفین میں ضرورت سے زیادہ یا مجبوری کے تحت استعمال کی عادت پیدا کر سکتے ہیں۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ آٹو پلے اور انفنٹ اسکرول کو ڈیفالٹ طور پر بند کیا جائے، مؤثر اسکرین ٹائم بریکس متعارف کرائی جائیں اور الگورتھمز کو صرف صارف کی مصروفیت بڑھانے کے بجائے محفوظ اور متوازن استعمال کو ترجیح دینے کے لیے تبدیل کیا جائے۔

دوسری جانب میٹا نے ان اعتراضات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے نوعمر صارفین کے تحفظ کے لیے “ٹین اکاؤنٹس” سمیت متعدد نئے حفاظتی فیچرز متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان فیچرز کے ذریعے والدین رات کے اوقات میں انسٹاگرام تک رسائی محدود کرنے، روزانہ اسکرین ٹائم مقرر کرنے اور دیگر حفاظتی اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔

تاہم یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اگر میٹا نے مطلوبہ اقدامات نہ کیے تو آئندہ چند ماہ میں کمپنی کے خلاف باضابطہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close