امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔
روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے باہمی دشمنی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔
ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔ اس سے قبل ایران نے کویت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جب کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔
دونوں فریق گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں حزب اللہ کے خلاف لبنان میں کارروائی شروع کی تھی، جس نے ایران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔
کویت اور آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فی صد اضافہ ہوا، جب کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے کویت کے ہوائی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا اور تباہی کا ذمہ دار امریکی دفاعی میزائلوں کو قرار دیا، جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مذاکرات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا کہ اسرائیل لبنان جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، فریقین نے آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، اور دونوں کے درمیان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج جنگ دوبارہ شروع کرنے اور کسی بھی وقت اسرائیل پر حملے کے لیے تیار ہیں، اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو مسلح افواج فیصلہ کن جواب دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو ایران اور لبنان میں جنگ بند ہو جائے گی یا کسی بھی ملک میں نہیں رکے گی۔
عراقچی نے کہا میں نے اپنی رابطہ فہرست میں موجود تمام لوگوں پر واضح کر دیا ہے، بیروت کے خلاف جارحیت کا نتیجہ جنگ کی طرف واپسی ہوگا، بیروت کے خلاف جارحیت کا مقابلہ کرنا ہمارا فرض ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کے ساتھ رابطہ منقطع نہیں ہوا لیکن مذاکرات میں کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوئی، مذاکرات کی واپسی ایرانی حقوق کے تحفظ، خطے میں جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوگی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






