امریکہ نے پاکستان اور انڈیا سمیت درجنوں ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس تشویش کے باعث کہ یہ ممالک جبری مشقت کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے کئی سابقہ محصولات کی منسوخی کے بعد نئے درآمدی ٹیکسز کا اعلان کیا ہے۔
فہرست میں شامل 60 تجارتی شراکت دار، جن میں برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، پاکستان، انڈیا اور جاپان شامل ہیں، امریکہ کو فروخت ہونے والی تقریباً تمام اشیا ہی برآمد کرتے ہیں۔
امریکی محکمۂ تجارت کا کہنا ہے کہ ان ممالک پر ٹیرف اس لیے عائد کیے جائیں گے کیونکہ وہ جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی اشیا کی درآمد کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی امریکہ اور دیگر ممالک میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ تجارت کرنا جو جبری مشقت سے بنی اشیا خریدتے ہیں امریکہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
امریکی نمائندہ برائے تجارت جیمیسن گریئر نے کہا کہ اس سے ’ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جس میں امریکی کارکنوں کو عالمی سطح پر غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
ٹیرف کا یہ فیصلہ ان تحقیقات کے بعد سامنے آیا جو امریکہ نے مارچ میں جبری مشقت کے خدشات کے پیشِ نظر ان 60 تجارتی شراکت داروں کے خلاف شروع کی تھی، جہاں سے مجموعی طور پر 99.4 درآمدات آتی ہیں۔
اپنی تحقیقات کے بعد امریکی محکمۂ تجارت نے منگل کو کہا کہ تمام 60 ممالک ’نہ تو جبری مشقت سے مکمل یا جزوی طور پر تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر قانونی پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی ایسی پابندی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکے ہیں۔‘
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






