کے پی کے حکومت خطرے میں؟ ناراض ارکان کا پشاور میں ہنگامی اجلاس

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض ارکان نے آج (پیر) پشاور میں اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ان کا ایک نکاتی ایجنڈا بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے باقاعدہ تحریک شروع کرانے کا مطالبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناراض ارکان کا مقصد صوبائی حکومت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پارٹی قیادت کی توجہ اپنے مطالبات کی جانب مبذول کرانا ہے۔

دوسری جانب اس سے قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق علی امین گنڈاپور نے گروپ میں ہونے والی گفتگو کے دوران کہا تھا کہ وفاداری اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا اختیار کسی فرد کے پاس نہیں، بلکہ یہ فیصلہ عملی کردار سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ کون کھڑا ہے، اس کا تعین باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ہوگا۔

علی امین گنڈاپور نے مزید کہا تھا کہ فیصلوں کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے اور پارٹی رہنماؤں کو اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ ان کے بقول پارٹی کارکن اور رہنما عمران خان کی قیادت کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔

سیاسی حلقوں کے مطابق ناراض ارکان کے اجلاس کے بعد سامنے آنے والے فیصلے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close