بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری! حکومت کا تگڑا ریلیف

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور یہ سہولت آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھی جائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جنہیں سالانہ 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سبسڈی کے نظام کے تحت ایک مخصوص رقم بجلی کے بلوں میں شامل کی جاتی ہے اور صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے میٹرز کو بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ کے ساتھ منسلک کریں۔ ان کے مطابق اب تک 20 لاکھ سے زائد صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی کی ہے جبکہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3 ہزار 500 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے جبکہ غیر ضروری مشینری کی فروخت سے 47 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ بعض حلقے بجلی کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کا تاثر دے رہے ہیں، حالانکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف کیٹیگریز کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے نرخوں میں 31 فیصد، گھریلو صارفین کے لیے 16 فیصد، صنعتی صارفین کے لیے 33 فیصد، کمرشل صارفین کے لیے 8 فیصد اور زرعی صارفین کے لیے 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 36 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور دیامر بھاشا و داسو ڈیم منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکومت توانائی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے سولرائزیشن کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق سال 2035 تک کلین انرجی کا حصہ 55 فیصد سے بڑھ کر 90 فیصد تک پہنچ جائے گا، جبکہ مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار کا تناسب 74 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کا شیئر 57 فیصد ہے جو بھارت کے 48 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

اویس لغاری نے واضح کیا کہ حکومت سولر توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔ ان کے مطابق قومی توانائی منصوبے میں 8 گیگاواٹ تقسیم شدہ شمسی توانائی شامل ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ ختم نہیں کی گئی، صرف بلنگ کے طریقہ کار میں اصلاحات کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیٹ بلنگ پالیسی سے 90 فیصد گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے، سنگل فیز گھریلو صارفین کے لیے سولر نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ گلگت بلتستان اور گوادر میں سولرائزیشن منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

وزیر توانائی نے مزید کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے اور توانائی شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close