نئی دہلی: بھارت کے جنوبی علاقوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے باعث کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سب سے زیادہ اموات ریاست تلنگانہ میں ہیٹ اسٹروک کے باعث رپورٹ ہوئی ہیں۔ ریاستی حکام نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ہنگامی اقدامات اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تلنگانہ کے ریونیو وزیر سری نیواسا ریڈی نے کہا ہے کہ گرمی کی شدت غیر معمولی سطح تک پہنچ چکی ہے، اس لیے پورے صوبے میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور عوام کو ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہے جس سے خون گاڑھا ہو سکتا ہے اور سنگین صورت میں جسمانی اعضا کام کرنا بھی بند کر سکتے ہیں۔ حکام نے بزرگ شہریوں، بچوں اور حاملہ خواتین کو دن کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا اور شدید ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں اس ہفتے درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث بجلی کی طلب میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رات کے اوقات میں بھی گرمی برقرار رہنے سے شہریوں کو کوئی خاص ریلیف نہیں مل رہا۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بھارت میں ہیٹ ویوز زیادہ شدید اور طویل ہو رہی ہیں، جبکہ ملک کا توانائی کا نظام اب بھی بڑی حد تک کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






