اسلام آباد:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے، جبکہ چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے ہدایت کی کہ ملزمہ کو اس کے اصل نام سے پکارا جائے، “پنکی” نہ کہا جائے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سندھ آزاد خان، ڈی جی نارکوٹکس سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انمول کے ایک بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس میں 90 لاکھ روپے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزمہ نے ایک شہری کی شناخت چوری کرنے کی بھی کوشش کی، جس پر الگ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے بھی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ انمول کے نیٹ ورک سے جڑے تمام افراد تک پہنچنا ضروری ہے اور تمام کڑیاں جوڑی جائیں۔ اس موقع پر سینیٹر شہادت اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے، اس لیے کمیٹی کو اس پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔
اجلاس میں ڈی جی اے این ایف سندھ نے بتایا کہ انمول ابھی پولیس کی تحویل میں ہے اور حوالگی کے بعد مزید کارروائی کی جا سکے گی۔ ایڈیشنل آئی جی سندھ کے مطابق 12 مئی کو کراچی پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ آپریشن میں ملزمہ کو گرفتار کیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ انمول تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرتی تھی اور ایک منشیات کے عادی شخص کی موت بھی اس کی فراہم کردہ منشیات کے باعث ہوئی۔
چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ ملزمہ دو مرتبہ ریمانڈ پر جا چکی ہے، 2008 میں لاہور جا کر ماڈلنگ کے شعبے میں قدم رکھا اور بعد ازاں منشیات کے کاروبار میں ملوث ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ ایک اے این ایف کیس سمیت لاہور میں پانچ مقدمات میں اشتہاری ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






