اسلام آباد:
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سپریم کورٹ اب اپنی سابقہ حیثیت کھو چکی ہے اور عدلیہ کا نظام محض وزارت قانون کے ماتحت ایک ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔
اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کا کیس سپریم کورٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی مقرر ہو جانا چاہیے تھا، تاہم اب بھی کیس لگوانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنا پڑ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ بادلِ نخواستہ عمل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر کوئی مقدمہ ایگزیکٹو کی خواہشات کے خلاف ہو تو اسے دانستہ طور پر التوا میں رکھا جاتا ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ بعض اوقات مقدمات کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور جب ایسا ممکن نہ رہے تو ایسے فیصلے سنائے جاتے ہیں جن سے سائلین مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






