ملک میں ایڈوانسڈ اسٹیج کینسر کے علاج کے دو اہم انجکشنز کی فروخت پر پابندی عائد کردی ، جو مختلف ٹیومرز، پھیپھڑے، جگر، مثانے، معدے اور خواتین میں چھاتی کے کینسر کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں ایڈوانسڈ اسٹیج کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے عالمی برانڈز کے قیمتی اور اہم انجکشنز مارکیٹ میں جعلی سپلائی کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا۔
ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی ‘آسٹرازینیکا’ کی شکایت پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ان جعلی انجکشنز کی فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ ملک گیر ریپڈ الرٹ میں کہا کہ کینسر کے دو اہم ترین انجکشنز کے مخصوص بیچز جعلی پائے گئے ہیں ، امفنزی (Imfinzi 500mg/10ml)، اس کا بیچ نمبر ASCB جعلی جبکہ انہرٹو (Enhertu 100mg) اس کا بیچ نمبر DK1262 جعلی قرار دیا گیا ہے۔
ان جعلی ادویات کے پیکٹس پر دھوکہ دہی کے لیے ‘آسٹرازینیکا جاپان’ اور ‘سویڈن’ کے پتے درج کیے گئے ہیں تاکہ یہ اصلی لگیں۔
لاہور کے مختلف ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے مریضوں میں ادویات کے اثر نہ کرنے پر ان کے جعلی ہونے کی نشاندہی کی تھی۔
ڈریپ حکام کے مطابق یہ دونوں انجکشنز انسانی جسم میں پیدا ہونے والے مختلف ٹیومرز، پھیپھڑے، جگر، مثانے، معدے اور خواتین میں چھاتی کے کینسر کے علاج کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔
ڈریپ نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان جعلی ادویات کی طبی افادیت بالکل صفر یا غیر واضح ہے، اور کینسر جیسے موذی مرض میں ان کا استعمال مریضوں کے لیے انتہائی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈریپ نے پنجاب حکومت کو خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ لاہور سمیت صوبے بھر میں کینسر کے ان جعلی انجکشنز کی سپلائی چین کی فوری اور جامع تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔
ملک بھر کے تمام ہسپتالوں، بلڈ بینکوں اور فارمیسیز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ‘امفنزی’ اور ‘انہرٹو’ کے ان متاثرہ بیچز کی سیل (فروخت) فوری طور پر روک دیں اور اپنے اسٹاک کو الگ کریں۔
ڈریپ نے اپنی نیشنل ریگولیٹری فیلڈ فورس کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ کی نگرانی (سرویلنس) کو فوری بڑھایا جائے اور جہاں بھی یہ جعلی بیچز نظر آئیں، انہیں فوری ضبط کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






