بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان صارفین کو بڑا ریلیف ملنے سے متعلق اہم خبر

جلی کے بھاری بلوں سے پریشان صارفین مجموعی طور پر 63 ارب 94 کروڑ روپے کا بڑا ریلیف ملنے کا قوی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے بجلی صارفین بشمول کے الیکٹرک کے لیے ایک بہت بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی، نیپرا میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کی ایڈجسٹمنٹ درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 63 ارب 94 کروڑ روپے کا بڑا ریلیف ملنے کا قوی امکان ہے۔

نیپرا سماعت کے دوران ڈسکوز اور پیسکو و میپکو حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف مدوں میں اخراجات کم ہونے کی وجہ سے یہ ریلیف ممکن ہوا ،جنوری سے مارچ کے دوران کپیسٹی چارجز کی مد میں 36 ارب 83 کروڑ 70 لاکھ روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، یوز آف سسٹم چارجز اور مارکیٹ آپریشن فیس کی مد میں 11 ارب 24 کروڑ روپے کم ہوئے۔

اس کے ساتھ انکریمنٹل یونٹس کی مد میں 23 ارب 51 کروڑ روپے کمی کی درخواست کی گئی ہے۔

میپکو نے اپنی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 6.3 ارب روپے کمی کی درخواست کی ، جس میں کہا کہ پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں بجلی کی فروخت میں 10 فیصد جبکہ ‘انکریمنٹل پیکج’ کے بعد انڈسٹری کو بجلی کی فروخت میں 28 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا ہے۔

پیسکو حکام نے اپنی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 8.6 ارب روپے کمی کی درخواست کی ہے، جس میں کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 6.8 ارب اور سسٹم چارجز کی مد میں 1.6 ارب روپے کی کمی شامل ہے۔

سماعت کے دوران نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں 1.93 روپے فی یونٹ ریلیف دیے جانے کے امکان پر صارفین اور صنعت کاروں نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔

انڈسٹری کے نمائندے تنویر باری اور دیگر صارفین نے نیپرا اور پاور ڈویژن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا “ہمیں بے حد خوشی ہے کہ ملک میں بجلی کی قیمتیں کم کی جا رہی ہیں۔ عالمی اور خطے کی صورتحال کی وجہ سے دنیا بھر میں بجلی مہنگی ہوئی، لیکن ایسی مشکل صورتحال میں بھی پاور ڈویژن نے پاکستان میں بجلی کی قیمتیں بڑھنے نہیں دیں اور اب عوام کو 1.93 روپے کا ریلیف ملنا انتہائی خوش آئند ہے۔ حکومت اسی طرح عوام کو مزید ریلیف دیتی رہے۔”

سماعت کے دوران ملک میں بجلی کے پیداواری ڈھانچے اور صلاحیت پر بھی بات چیت ہوئی۔

دورانِ سماعت یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس وقت ملک میں کُل 45 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق صرف 25 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

صارفین نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں پہلے ہی اتنی زائد صلاحیت موجود ہے اور کئی پرانے پاور پلانٹس ریٹائر ہو رہے ہیں، تو نئے پاور پلانٹس کیوں لگائے جا رہے ہیں؟ اس نظام کو مزید بہتر بنا کر بجلی کو مستقل بنیادوں پر سستا کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close