تہران : ایران کی طاقتور فورس پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس اب محدود آپشنز رہ گئے ہیں یا تو وہ خطرناک فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کرے یا ایران کی شرائط پر مبنی تلخ معاہدہ قبول کرے۔بیان میں کہا گیا کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں فیصلہ اب مکمل طور پر امریکا کے ہاتھ میں ہے اور وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔یہ بیان ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کے بعد سامنے آیا، جس میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے تجاویز شامل ہیں، ایرانی مطالبات میں امریکا کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت، آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطی میں جاری تنازعات کو ختم کرنا شامل ہے۔ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منصوبے پر غور کا عندیہ دیا ہے، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔دوسری جانب ایرانی رہنما محسن رضائی نے سخت بیان دیتے ہوئے خلیج میں موجود امریکی افواج کو قزاق قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز امریکی بحری جہازوں کے لیے قبرستان بن سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






