بولی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی رہائش گاہ ’گلیکسی اپارٹمنٹس‘ پر ہونے والے حملے کے کیس میں ایک سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کی ایک خصوصی عدالت میں جاری ٹرائل کے دوران سلمان خان کے ذاتی باڈی گارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ صرف دھمکانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں قتل کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران باڈی گارڈ نے بطور گواہ اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 14 اپریل 2024 کی صبح ہونے والی فائرنگ کا واقعہ محض دھمکی دینے یا خوف پھیلانے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ یہ براہِ راست سلمان خان کو نشانہ بنانے کے لیے ایک قاتلانہ حملہ تھا۔
گواہ نے زور دے کر کہا کہ حملہ آوروں نے جس زاویے سے فائرنگ کی، اس کا مقصد اداکار کی جان لینا تھا۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے باڈی گارڈ نے واقعہ کی صبح کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ 13 اپریل کی شام سے اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ صبح تقریباً 4:55 بجے جب تمام لوگ سو رہے تھے، اچانک پٹاخوں جیسی زوردار آوازیں سنی گئیں۔
جب سی سی کیمرے چیک کیے گئے تو دیکھا گیا کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد، جنہوں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے، عمارت کی پہلی منزل کی جانب مسلسل فائرنگ کر رہے تھے۔ اسی منزل پر سلمان خان کا بیڈروم واقع ہے۔
حملہ آوروں نے 5 راؤنڈ فائر کیے، جن میں سے ایک گولی سلمان خان کے گھر کی بالکونی کے نیٹ کو چیرتی ہوئی اندر جا لگی۔
باڈی گارڈ نے عدالت میں واضح طور پر کہا کہ یہ واقعہ ایک منصوبہ بند قتل کی کوشش تھی۔ تاہم، اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پہلے سے ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔
واضح رہے کہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کی جانب سے ملنے والی مسلسل دھمکیوں کے باعث سلمان خان کی سیکیورٹی پہلے ہی ’ہائی الرٹ‘ پر تھی۔
اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مہیش مولے نے عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی، جس کی مدد سے گواہ نے ملزمان وکی گپتا اور ساگر پال کی شناخت کی۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس حملے سے دو دن قبل محمد رفیق سردار چوہدری نامی شخص نے علاقے کی مکمل ریکی کی تھی اور ویڈیو ریکارڈنگ انمول بشنوئی کو بھیجی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا آپریشن جیل میں بند گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ایما پر اس کے بھائی انمول بشنوئی نے کینیڈا اور امریکہ سے آپریٹ کیا۔
ہفتے کے روز ہونے والی سماعت میں ایک اور پولیس گارڈ نے بھی گواہی دی جس نے حملے کے فوراً بعد زمین سے گولیوں کے خالی خول برآمد کیے تھے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ باڈی گارڈ کی جانب سے اس حملے کو ”اقدامِ قتل“ قرار دیے جانے کے بعد اب ملزمان کے خلاف دفعہ 307 کے تحت الزامات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
کیس کی مزید سماعت آنے والے دنوں میں جاری رہے گی جس میں مزید اہم گواہان کے بیانات متوقع ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






