ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف درج فراڈ کیس میں انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کی، جس میں فواد چوہدری اپنے وکلا شمس اقبال اور قمر عنایت راجہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران شکایت کنندہ ملک محمد ظہیر عدالت میں موجود تھے، تاہم ان کے وکیل فرحان منظور پیش نہیں ہوئے۔ فواد چوہدری کے وکلا کی جانب سے بریت کی درخواست پر تفصیلی دلائل دیے گئے، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمے میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں اور استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
وکلا نے عدالت کو بتایا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے کیس میں عدم دلچسپی بھی مقدمے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور استدعا کی کہ دستیاب شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر فواد چوہدری کو کیس سے بری کیا جائے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فواد چوہدری کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں فراڈ کیس سے مکمل طور پر بری کر دیا۔
یہ مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






