صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی وفد کی ملاقات انتہائی نتیجہ خیز رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی ایرانی وفد سے 3 گھنٹے تک ملاقات ہوئی، جو انتہائی نتیجہ خیز رہی۔ ایرانی حکام سے مستقبل قریب میں ایک اور ملاقات طے ہے، کسی معاہدے تک پہنچنا ایران کے مفاد میں ہے، ایران کے سامنے 2 آپشنز ہیں جن میں سے ایک انتہائی برا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ اب مجھے ایران سے متعلق بڑا فیصلہ کرنا ہے، ڈیل ہوتی ہے تو ایران بہترین ملک بن سکتا ہے، ورنہ ایسی کارروائی ہوگی کہ ایران مکمل طور پر تباہ ہو جائے۔ ایرانی حکومت کمزور اور مایوس ہے، اس کا رویہ بہت برا ہے۔
تمام اقوام سے اپیل ہے کہ ایران پر اقتصادی ناکہ بندی کے لیے ہمارا ساتھ دیں، امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ارب بیرل سے زائد تیل کی حفاظت کی۔
اسلحے سے متعلق دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس اسلحہ ذخیرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور ہم غیر معمولی رفتار سے اضافہ کر رہے ہیں۔
غزہ کے حوالے سے کہا کہ ہم نے غزہ میں جنگ ختم کر کے ہزاروں شہریوں کی جان بچائی اور یرغمالی واپس لائے، 30 ممالک غزہ امن کونسل میں شامل ہو چکے ہیں جس کی صدارت مجھے حاصل ہے۔ میں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، سیکیورٹی کونسل نے غزہ پیس بورڈ کی منظوری دی۔






