اقوام متحدہ ،جنرل اسمبلی میں ترک صدر کی غزہ صورتحال پر کڑی تنقید ، اسرائیلی وفدکا واک آؤٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر اردوان کی تند و تیز تقریر کے دوران اسرائیلی وفد واک آؤٹ کر گیا۔

 

اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن کی قیادت میں سفارت کار اس وقت ہال سے نکلے جب اردوان نے غزہ میں مظالم اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کا ذکر کیا۔ فلسطینی وفد نے تالیاں بجا کر ان کے موقف کی حمایت کی۔

 

اردوان نے اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دنیا پر زور دیا کہ فلسطین کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرے اور اسرائیل پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھائے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم امریکی صدر ٹرمپ کی مدد سے سیز فائر میں کردار ادا کر چکے ہیں لیکن اس وقفے کے باوجود غزہ میں 1300 سے زائد شہری قتل ہو چکے ہیں۔ حماس اور دیگر گروہوں نے سیز فائر فریم ورک کے دوسرے مرحلے کو تسلیم کر لیا ہے لیکن اسرائیل کارروائیاں ختم نہیں کر رہا۔ مغربی کنارہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔

 

انہوں نے غزہ کو موجودہ دور کا سب سے ظالمانہ کنسنٹریشن کیمپ قرار دیا۔

 

اردوان نے اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 81 سال قبل امن کے لیے قائم ادارہ اپنا فرض پورا کرنے میں ناکام اور معطل ہو چکا ہے، فلسطین، لبنان اور سوڈان میں بے بس نظر آتا ہے۔ امریکی ویزا نہ ملنے پر صدر عباس کی عدم موجودگی کو ناانصافی قرار دیا۔ یوکرین جنگ فوری ختم کرنے پر بھی زور دیا۔