ایلون مسک کو بڑا دھچکا لگ گیا

ایلون مسک کو حالیہ ہفتوں میں بڑا مالی دھچکا لگا ہے، اور ان کی مجموعی دولت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق 16 جون کو ایلون مسک کی دولت تقریباً 1.45 ٹریلین ڈالر تھی، جو 23 جولائی تک بلومبرگ بلینئر انڈیکس کے مطابق کم ہو کر تقریباً 738 ارب ڈالر رہ گئی۔ اس طرح تقریباً پانچ ہفتوں میں ان کی دولت میں 712 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے حصص میں شدید گراوٹ ہے۔ اسپیس ایکس کی ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کے بعد کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ایک موقع پر 2.64 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں حصص میں 41.41 فیصد کمی آئی اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو گھٹ کر 895.24 ارب ڈالر رہ گئی، جس سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت ختم ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس گراوٹ کی وجوہات میں اسٹار شپ لانچ میں تاخیر، مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کی قدر کے بارے میں سرمایہ کاروں کی نئی تشخیص، اور مسلسل فروخت کا دباؤ شامل ہیں۔ اس دوران شارٹ سیلرز نے بھی اس کمی سے تقریباً 15.5 ارب ڈالر کا منافع حاصل کیا۔

دوسری جانب ٹیسلا کے حصص میں بھی نمایاں کمی نے ایلون مسک کی دولت کو متاثر کیا۔ کمپنی نے دوسری سہ ماہی میں 28.24 ارب ڈالر آمدنی اور 4 لاکھ 80 ہزار 126 گاڑیوں کی ترسیل رپورٹ کی، تاہم فی حصص آمدنی اور آپریٹنگ منافع مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے، جبکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹیکسی، آپٹیمس اور ڈوجو منصوبوں پر بڑھتے اخراجات کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

23 جولائی کو ٹیسلا کے حصص 14.52 فیصد گر کر 319.69 ڈالر پر بند ہوئے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کمپنی کے شیئرز میں 16.23 فیصد جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک 28.91 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس تمام تر گراوٹ کے باوجود ایلون مسک اب بھی دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور دوسرے امیر ترین فرد سے سینکڑوں ارب ڈالر کی برتری رکھتے ہیں۔