چینی صدر سے دو گھنٹے طویل ملاقات، شی جن پنگ کی ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا۔

تاہم، ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔تاہم، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ”بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔“

بیان کے مطابق، ”چینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم رہیں گے، لیکن اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ اور بڑے تنازعات جنم لے سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔“

ماؤ ننگ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن دو ایسی چیزیں ہیں جو آگ اور پانی کی طرح ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہی چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ نکتہ ہونا چاہیے۔

چین کی وزارت خارجہ نے بھی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر جاری بڑے تنازعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں سربراہان مملکت نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، یوکرین کے بحران اور جزیرہ نما کوریا جیسے اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر اپنے اپنے موقف اور خیالات کا تبادلہ کیا۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان مذاکرات میں ان تمام بڑے مسائل کو زیر بحث لایا گیا جو اس وقت عالمی امن اور سلامتی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان پیچیدہ عالمی حالات پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی تاکہ مختلف خطوں میں جاری بحرانوں کا حل تلاش کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے لیے ٹرمپ کا یہ رویہ حیران کن ہے کیونکہ جنوری 2025 میں ان کی واپسی پر سخت اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی۔

لا ٹروب یونیورسٹی کے پروفیسر نک بسلے نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ”جنوری 2025 میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ چین کو ٹف ٹائم دیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باوجود ٹرمپ کا بیجنگ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس تعلق کو کتنی ترجیح دے رہے ہیں۔

آزاد تجزیہ کار اینڈریو لیونگ نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے ٹرمپ اس وقت اپنے چینی ہم منصب کے سامنے قدرے کمزور پوزیشن میں بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال ابھی تک حل نہیں ہو سکی ہے اور امریکا کے اندر بھی بہت سے لوگ اس تنازع کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرمپ پر اندرونی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے اپنی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیا ہے۔

اینڈریو لیونگ کے مطابق چین کے پاس نایاب معدنیات (رئیر ارتھ) کی پروسیسنگ پر مکمل کنٹرول ہے، جو امریکا کے جدید ترین فوجی اثاثوں بشمول ایف-35 طیاروں کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری ہیں، اور یہی چیز بیجنگ کو مذاکرات میں برتری دیتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان طویل مدتی مقابلہ اور کشیدگی برقرار رہے گی۔

اینڈریو لیونگ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات کی مکمل بحالی سے ابھی بہت دور ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے ساتھ ایپل، بلیک راک اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے وفود لائے ہیں تاکہ وہ اپنی سیاسی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے وعدے حاصل کر سکیں۔

اس ملاقات میں تائیوان کا معاملہ صدر شی جن پنگ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ صدر ٹرمپ کو تائیوان کی آزادی یا ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی پر راضی کر لیتے ہیں، تو یہ چین کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔

چین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ محاذ آرائی کے مقابلے میں تعاون زیادہ قیمتی ہے۔ اس کے بدلے میں چین امریکا سے محصولات میں کمی، چینی کمپنیوں پر لگی پابندیاں ختم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا اشارہ اب تعلقات کو مستحکم کرنے اور بہتر بنانے کی طرف ہے، جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close