چین میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے دوران سینئر سفارتکار سن ویڈونگ کو اچانک نائب وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
چین کی وزارت انسانی وسائل نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک مختصر بیان میں برطرفی کی تصدیق کی، تاہم اس فیصلے کی وجوہات یا وقت کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین حکومتی اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق سن ویڈونگ کی آخری عوامی سرگرمی 13 مارچ کو سامنے آئی، جب انہوں نے برونائی اور ملائیشیا کے سفیروں سے ملاقات کی۔ اس سے دو روز قبل انہوں نے چین میں تعینات پاکستان کے سفیر سے بھی دوطرفہ تعاون کے امور پر بات چیت کی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی اچانک برطرفیاں اکثر اندرونی احتسابی عمل یا پالیسی تبدیلیوں کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے خاموشی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال چین میں بدعنوانی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جن میں 10 لاکھ سے زائد کیسز کی تحقیقات کی گئیں جبکہ تقریباً 9 لاکھ 38 ہزار افراد کو مختلف سزائیں دی گئیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں درجنوں اعلیٰ سطح کے حکام سمیت ہزاروں بیورو، ضلعی اور مقامی سطح کے افسران بھی شامل تھے، جو چین کی سخت انسداد بدعنوانی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






