مون سون نے خطرناک رخ اختیار کر لیا، این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ جاری

اسلام آباد: پاکستان میں مون سون بارشوں کے شدت اختیار کرنے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ ہفتے کے دوران ممکنہ قدرتی آفات اور سیلابی خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع موسلا دھار بارشوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب، ملبے کے ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادارے نے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے بالائی اضلاع میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ حساس علاقوں میں ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، خرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال، سوات اور دیگر ملحقہ وادیاں شامل ہیں۔

این ڈی ایم اے نے دریاؤں اور ندی نالوں کے کنارے آباد افراد کو الرٹ رہنے، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔

الرٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، سوات، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، تورغر اور کوہستان میں ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔

پنجاب میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم ایز اور تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھے جائیں اور امدادی ادارے ہر وقت تیار رہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close