وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ امریکا ایران مذاکرات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی مذاکرات کاروں سے کہا کہ روز محشر آپ گواہی دینگے کہ میں نے دل سے کوشش کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی زیرِ صدارت پیغام امن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں محرم الحرام میں بین المسالک ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ علما کے ساتھ مضبوط اور مستقل رابطہ وزارت داخلہ کی ترجیحات میں شامل ہے، پیغام امن کمیٹی کو ضلعی سطح تک فعال اور مؤثر بنایا جائے گا، دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں عوامی آگاہی ضروری ہے، اسلام میں ریاست کے خلاف بغاوت اور فساد کی گنجائش نہیں لہٰذا علما عوام کی رہنمائی کریں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ نے پیغام امن کمیٹی کیلیے رابطہ کار مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
اس موقع پر انہوں نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے قیادت کی جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کپتان کے طور پر عملی میدان میں کلیدی کردار ادا کیا، مجھ سمیت باقی تمام افراد نے ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح ذمہ داریاں ادا کیں، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی معاہدہ اسی ٹیم ورک کے نتیجے میں طے پایا۔
جن پر فریقین کو اعتماد تھا، دنیا کے کئی ممالک نے بھی مذاکرات کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہو سکی، فیلڈ مارشل نے امن کیلیے ضرورت کے وقت سخت گفتگو اور غلطیوں کی نشاندہی بھی کی، ان کی صاف گوئی اور دو ٹوک انداز کی وجہ سے باہمی اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے خاتمے میں چند گھنٹے باقی تھے اور کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تھا، فیلڈ مارشل عاص منیر نے ایرانی مذاکرات کاروں سے کہا کہ ’’روز محشر آپ گواہی دیں گے کہ میں نے دل سے کوشش کی۔ دل سے کوشش کی ایک جان بھی بچ جائے۔ اگر اب جنگ ہوتی ہے تو ذمہ داری آپ پر ہوگی‘‘، ان الفاظ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو متاثر کیا اور پھر مذاکرات آگے بڑھے۔
’پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کی مدد شامل رہی۔ کچھ ایسے واقعات ہوئے جو پہلے بھی بیان کیے جا چکے اور جن سے غیبی مدد ملنے پر یقین پختہ ہوتا ہے۔ امریکا ایران مذاکرات کے دوران بھی متعدد مواقع پر دونوں فریقین حملے کے قریب پہنچے۔ اللہ کی مدد کے باعث معاملات ہر بار رکے اور صورتحال قابو میں رہی۔ اس پورے مشکل مرحلے میں لیڈر اور کپتان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے کردار ادا کیا لیکن کامیابی کا سہرا ہمیشہ کپتان کے سر جاتا ہے۔‘
اجلاس میں علمائے کرام نے امن معاہدے پر وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پیغام امن کمیٹی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور امن و امان کیلیے خصوصی دعا کی گئی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






