ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کریں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ان کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں، جبکہ عباس عراقچی اپنے دورے کے اگلے مراحل میں مسقط اور ماسکو کا بھی دورہ کریں گے۔

ایران کی نیم سرکاری مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ آج شام سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دوروں کا آغاز کر رہے ہیں۔

مہر نیوز کے مطابق اس دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت، خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

سی این این کے مطابق سینئر امریکی حکام نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیج رہے ہیں، جہاں وہ ایران سے متعلق امن مذاکرات پر بات چیت کریں گے۔

سی این این نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اس وقت ان مذاکرات میں شریک نہیں ہو رہے، تاہم اگر پیشرفت ہوئی تو جے ڈی وینس اسلام آباد آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں مختصر وفد کی پاکستان آمد کو ایک اہم سفارتی پیشرفت قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے رابطے کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت کی اور انہیں ایرانی ہم منصب سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا۔

شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان خطے کی سکیورٹی صورتحال اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر بھی گفتگو ہوئی۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کو جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متحرک ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف نے امن و استحکام کے لیے اہم پالیسی اور سفارتی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کو فروغ دینے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے اعلیٰ سطح پر سفارتی روابط میں تیزی لانے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close