تحریکِ انصاف کا ممکنہ مارچ ، پی ٹی آئی کے آٹھ اراکینِ قومی اسمبلی گرفتار، وزرا لاپتا

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ مارچ کے پیش نظر سیاسی و سیکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔

 

چیئرمین بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر سے تقریباً 1500 ورکرز، متعدد MNAs، MPAs اور ایک سینیٹر کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ بانی کی بہنوں اور فیملی کے 4 افراد کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق ایم پی او کے تحت عادل بزنجو، احسن جمال، ثناء اللہ مستی خیل، سینیٹر سیف اللہ نیازی سمیت دیگر رہنما زیر حراست ہیں۔ لاہور میں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کو بھی حراست میں لیا گیا۔

 

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کے پی میں نوٹیفکیشن کے بغیر ہی گورنر راج نافذ ہے، ارکان ہمارے ہیں اختیار کسی اور کا، یہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔

 

دوسری جانب اسلام آباد میں دفعہ 144 اور پیس فل اسمبلی ایکٹ نافذ، خلاف ورزی پر 3 سال قید ہو سکتی ہے۔ کے پی سے پنجاب اور اسلام آباد داخلہ روکنے کے لیے موٹرویز پر کنٹینرز لگا دیے گئے، ایم ون پر اٹک، غازی اور چھچھ سے ٹول پلازہ تک راستے بند، تعلیمی ادارے بند اور کلاسز آن لائن کر دی گئیں۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کے پی حکومت صوبے کی حالت پر توجہ کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی چاہتی ہے، پی ٹی آئی صرف ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا سیاست کر رہی ہے۔

 

سابق رہنما شیر افضل مروت نے کہا پی ٹی آئی بغیر تیاری کے خود کو بند گلی میں لے آئی، کارکنوں کو مقصد معلوم نہیں، حکومت انا کا شکار ہے، وزیراعظم بیرسٹر گوہر کو ایک فون کر لیں تو فیس سیونگ مل سکتی ہے۔