پنجاب میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔
حکومت پنجاب نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز تعیناتی کے لیے وزارت داخلہ کو مراسلہ بھیج دیا، جب کہ 26 اور 27 ستمبر کو راولپنڈی، اسلام آباد اور اٹک میں موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مظاہرین سے نمٹنے کے لیے وفاقی پولیس کو نیٹ لانچر فراہم کر دیے گئے ہیں۔ کے پی کو پنجاب سے ملانے والے راستوں پر کنٹینرز لگا دیے گئے اور موٹروے کی بندش کا عمل شروع کر دیا گیا۔
ادھر بلوچستان بھر میں بھی ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر اجتماع، دھرنوں، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی ہوگی۔ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے اور نقاب استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔
دفعہ 144 کا نفاذ 30 روز کے لیے پورے صوبے میں کیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں و ضلعی انتظامیہ کو اس پر عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔






