پیٹرول، ڈیزل پر ٹیکس لے کر کوئی انوکھا کام نہیں کر رہے، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر کا اہم بیان سامنے آگیا

وزیراعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ کے بعد لیوی میں اضافہ نہیں کیا اور یہ پہلے کی سطح پر ہی برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیٹرول اور ڈیزل پر 30 سے 50 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں پیٹرول پر تقریباً 30 فیصد اور ڈیزل پر 25 فیصد ٹیکس لیا جا رہا ہے۔

رانا احسان افضل نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کی کوشش کی، تاہم اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ممکن نہیں۔ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر اگر طویل عرصے تک سبسڈی دی جائے تو اس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر اضافی بوجھ ڈال کر فائدہ اٹھا رہی ہے۔ مشکل حالات میں عوام کو مزید غصہ دلانے کے بجائے صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت پاکستان کے پاس محدود مالی وسائل کے باعث دیگر قابلِ عمل راستے موجود نہیں۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کے مطابق پیٹرولیم لیوی بجٹ کا حصہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن ملکی قرضوں کی ادائیگی سمیت مختلف سرکاری اخراجات اور مالی معاملات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔