کراچی (آئی این پی) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گزشتہ دو تین سال کے دوران ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن کا مقصد شہریوں کو محفوظ، بہتر اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
سندھ اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹی ویگنز اور وینز کے حوالے سے حکومت سندھ نے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں سب سے پہلے ان گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی کٹس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تاکہ ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گاڑیاں نہ صرف بین الاضلاعی اور اندرون شہر سفر کے لیے استعمال ہوتی ہیں بلکہ اسکول جانے والے بچوں کی آمدورفت کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں، اس لیے ان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے تمام متعلقہ گاڑیوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا ہے جبکہ ڈیجیٹلائزڈ فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ ماضی میں گاڑیوں کا ریکارڈ دستی طور پر رکھا جاتا تھا اور روٹ پرمٹ سمیت دیگر دستاویزات کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہوتا تھا، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں ٹرانسپورٹ فٹنس اور روٹ پرمٹ کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے، جو ایک بڑا اور انقلابی اقدام ہے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ قوانین پر عملدرآمد کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ ایسی گاڑیاں جن کے کاغذات مکمل نہ ہوں یا ڈرائیورز کے پاس لائسنس موجود نہ ہو، ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ فٹنس معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کو تحویل میں لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس کا نظام بھی شروع کیا ہے تاکہ خدانخواستہ حادثے کی صورت میں متاثرین کو بروقت معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ سڑکوں پر ٹریفک سیفٹی اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل مسلسل جاری ہے، خصوصاً عید اور دیگر تہواروں کے موقع پر سرپرائز چیکنگ کی جاتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں اور جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور متعلقہ گاڑیوں میں حفاظتی انتظامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کراچی کے ٹریفک مسائل کا ذکر کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ان بسوں کے روٹس میں تبدیلی کی گئی ہے جو اندرون شہر سے آکر تاج کمپلیکس، صدر اور کینٹ کے علاقوں تک جاتی تھیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی گئی ہے جو آج بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہری تاج کمپلیکس، کینٹ اور دیگر مقامات سے اس شٹل سروس کے ذریعے بغیر کسی کرائے کے سفر کرسکتے ہیں، جبکہ کراچی سے دیگر شہروں کے لیے سفر کرنے والے مسافر بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سینئر وزیر نے کہا کہ مفت شٹل سروس ایک مہنگا انتظام ہے، تاہم کراچی کے شہریوں اور پاکستان بھر کے لوگوں کو حکومت سندھ کے ان اقدامات کو سراہنا چاہیے، کیونکہ ان کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ ٹریفک نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مسافروں کو چاہیے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، ذمہ داری سے سفر کریں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ سڑکوں پر صورتحال مزید بہتر ہوسکے۔






