پنجاب کی جیلوں میں کتنے قیدی موجود ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

صوبے کی 44 جیلوں میں گنجائش سے تقریباً 90 فیصد اضافی قیدی موجود ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں مجموعی طور پر 74 ہزار 118 قیدی موجود ہیں جبکہ جیلوں کی مجموعی گنجائش صرف 39 ہزار 304 ہے۔

 

اعدادوشمار کے مطابق لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کی گنجائش 2120 ہے، تاہم یہاں قیدیوں کی تعداد 6426 تک پہنچ چکی ہے۔ سنٹرل جیل لاہور میں 2692 قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 3300 سے زائد قیدی موجود ہیں۔ صوبے کی جیلوں میں سب سے زیادہ قیدی سنٹرل جیل راولپنڈی میں موجود ہیں، جہاں قیدیوں کی تعداد 8329 تک پہنچ گئی ہے جبکہ جیل کی گنجائش صرف 2174 قیدیوں کی ہے۔

 

اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں 71 ہزار 520 مرد، 1718 خواتین جبکہ 704 کم عمر قیدی موجود ہیں۔ ان میں 59 ہزار 586 قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جبکہ 16 ہزار 131 قیدی سزا یافتہ ہیں۔ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کا سب سے زیادہ بوجھ لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد کی جیلوں پر ہے۔

 

جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی کے باعث مختلف بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں، جبکہ محدود جگہ اور بنیادی سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے جیل انتظامیہ کے مسائل میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ لاہور میں نئی جیل کے قیام کی سمری گزشتہ دس سال سے زیرِ التوا ہے، جس کے باعث موجودہ جیلوں پر قیدیوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

 

گزشتہ تین سال کے دوران پنجاب کی جیلوں میں 20 ہزار سے زائد قیدیوں کا اضافہ ہوا ہے، تاہم اس عرصے میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا جا سکا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور زیرِ سماعت مقدمات کی بڑی تعداد کے باعث جیلوں میں اوور کراؤڈنگ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔