پی ٹی آئی کے لیے دروازہ کھلتا نظر آ رہا ہے، اسد عمر

اسلام آباد (آئی این پی) پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے سامنے آنے والی ڈیویلپمنٹس بہت اہم ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ امکان موجود ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کو ہسپتال منتقل کرنے کے متعلق ڈیویلپمنٹس حکومت اور پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈالنے کے لئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کی حالت کے حوالے سے دیکھا جائے تو ان کو آٹھ ماہ پہلے ہی ہسپتال منتقل کر دیا جانا چاہئے تھا۔

اسد عمر نے کہا کہ ایک منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ صرف صحت کی بات ہو۔ دوسرا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے جو بہت سے لوگ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو دباؤ میں لانے کے لئے کیا جا رہا ہو اور ان سے کہا جا رہا ہو کہ اگر تم اچھے بچے نہیں بنو گے تو یہ بھی ہو سکتا ہے۔

تیسرا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سوچ ڈیویلپ ہو رہی ہے کہ جس طریقے سے نظام کو چلایا جا رہا ہے وہ پاکستان کے لئے بہتر نہیں ہے، کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو تھوڑا سا دروازہ کھلتا نظر آ رہا ہے، اس دروازے کو پی ٹی آئی کو کوشش کرنا چاہئے کہ مکمل کھولا جائے۔

اسد عمر نے کہا کہ دروازہ کسی بھی وجہ سے کھلا ہو، اب تو یہ کھل گیا ہے، اب تحریک انصاف کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس موقع کو بانی اور تحریک انصاف کے لئے استعمال کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بنیادی اصولوں کو چھوڑے بغیر، پاکستان کے سیاسی فیصلوں کا حتمی حق پاکستان کے عوام کو ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال سے جو صورتحال ہے، اس میں پی ٹی آئی کا بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ پی ٹی آئی کے بانی پارٹی کی قیادت کرنے کے لئے آزاد ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی ٹمپریچر کو کم کرنا چاہئے۔

نئے صوبوں کے متعلق سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ جو باتیں کی جا رہی ہیں، وہ تحریک انصاف کے منشور کا بھی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی بات شاہد خاقان عباسی کی پارٹی کر رہی ہے۔

پروگرام کے اینکر نے اس جواب پر مزید سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی تقریر کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں انہوں نے یہ کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ کب تک میانوالی کے لوگ لاہور آنے پر مجبور رہیں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانا پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے۔ جنوبی پنجاب کا تو پی ٹی آئی کی حکومت کے وقت الگ سیکریٹریٹ بنایا گیا۔ اسی طرح ہزارہ صوبہ کی سپورٹ ہے۔ اور بھی دوسرے ہیں جو نیا صوبہ دیکھنا چاہئے۔ اگر عوامی رائے تیار ہو جائے تو ضرور نئے صوبے بنانا چاہئے۔