کراچی(آئی این پی) محکمہ اسکول تعلیم سندھ میں گریڈ 16 کے چھ جعلی سیکنڈری اسکول ٹیچرز کی غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ اسکول تعلیم نے تحریری طور پر اس جعل سازی کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔
محکمہ اسکول تعلیم کے مطابق ان جعلی اساتذہ کی میرپورخاص میں تقرری کی گئی تھی، جنہیں نہ صرف بوگس آفر آرڈرز جاری کئے گئے بلکہ محکمہ کے اپنے آئی ٹی سیکشن نے ان جعلی آفر آرڈرز پر بار کوڈ بھی لگا دئیے۔ اس کے بعد آئی ٹی سیکشن کی ملی بھگت سے ان جعلی اساتذہ کو باقاعدہ پرسنل آئی ڈیز بھی الاٹ کر دی گئیں۔
محکمہ اسکول تعلیم نے اس تمام جعلسازی کا نوٹس لیتے ہوئے تمام 6 اساتذہ کی بھرتیوں کو باضابطہ طور پر جعلی قرار دے دیا۔ اس حوالے سے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو سیکشن افسر سیکنڈری تھری کے دستخط سے خط ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں ان جعلی اساتذہ کی تنخواہیں فوری طور پر بند کرنے اور اب تک وصول کی گئی تنخواہوں کی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کروانے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ اسکول تعلیم کی جانب سے جن اساتذہ کی پرسنل آئی ڈیز بلاک کی گئی ہیں ان میں فہد علی، انیل کمار، شاہ رخ خان، زاہد علی، ارشد علی اور عابدہ پروین شامل ہیں۔
دوسری جانب، محکمہ اسکول تعلیم نے اس سنگین جعل سازی اور بوگس بھرتیوں میں ملوث اندرونی عناصر اور جعل سازوں کے خلاف تاحال کوئی محکمانہ یا قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی ہے۔






