پشاور (آن لائن) کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت بجلی کی لوڈشیڈنگ میں عوام کو ریلیف دینے، بجلی چوری اور کنڈا مافیا کے خلاف کارروائی، واجبات کی وصولی اور بجلی میٹرز کی تنصیب کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں پشاور ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، سپرنٹنڈنگ انجینئر پیسکو اور تمام ایکسینز نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اب فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر کی جائے گی۔
فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ بجلی چوری یا واجبات کی عدم ادائیگی والے علاقوں کی وجہ سے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین متاثر نہ ہوں۔ جس ٹرانسفارمر سے منسلک علاقے میں بجلی چوری نہ ہونے اور واجبات کی باقاعدگی سے ادائیگی کی صورتحال ہوگی، اسے حتی الامکان لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
کمشنر ریاض خان محسود کے مطابق یہ نظام ابتدائی طور پر چارسدہ کے مختلف علاقوں، متنی، چمکنی اور دیگر منتخب علاقوں میں آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا۔ نتائج کا جائزہ لینے کے بعد اسے مزید علاقوں تک توسیع دینے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں بجلی چوری، کنڈا مافیا اور بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائی کے لیے پشاور ڈویژن کے تمام اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ٹیموں میں پیسکو افسران و اہلکاروں، پولیس، ارکان صوبائی اسمبلی، سابق بلدیاتی نمائندوں، متعلقہ تحصیلدار، گرداور اور پٹواریوں کو شامل کیا جائے گا۔
خصوصی ٹیمیں منگل سے بجلی چوروں اور بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائیاں شروع کریں گی۔
کمشنر پشاور ڈویژن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بجلی چوری کے خاتمے، کنڈا مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، واجبات کی وصولی اور بجلی میٹرز کی تنصیب کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
انہوں نے پیسکو اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
ریاض خان محسود نے واضح کیا کہ بجلی چوری کے خاتمے اور واجبات کی وصولی کے لیے کارروائی کسی فرد یا علاقے کے خلاف نہیں بلکہ بجلی کے نظام میں بہتری اور قانون کی یکساں عملداری کے لیے کی جائے گی، تاکہ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو غیر ضروری لوڈشیڈنگ سے بچایا جاسکے۔
کمشنر نے تمام متعلقہ حکام سے اقدامات پر ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔






