لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات منظور ہونے تک دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے۔ لاہور، کراچی اور پشاور کے دھرنے 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں اور اب نظام کی ناکامی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ افسر شاہی کو بھی خود کو حاکم سمجھنے کے رویے سے باز آنا ہوگا۔
جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف احتجاج دوسرے روز میں داخل ہوگیا۔ شدید گرمی کے باوجود لاہور کے چیئرنگ کراس پر ہزاروں افراد کا دھرنا جاری رہا، جبکہ شرکاء نے رات مال روڈ پر گزاری۔ کراچی اور پشاور کے گورنر ہاؤسز کے باہر بھی دھرنے جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کا مقدمہ لڑنے کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے۔ یہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ ڈاکٹرز، وکلا، تاجروں، کسانوں اور دیگر طبقات سمیت 25 کروڑ عوام کا دھرنا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر احتجاج میں شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف عوام پر پٹرول بم گرا رہی ہے اور دوسری جانب بجلی مہنگی کرکے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ عالمی جنگ کا بہانہ بنا کر پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور اب ہر اضافے کو آئی ایم ایف سے جوڑا جاتا ہے۔
آئی پی پیز کے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں آئی پی پیز کا سلسلہ شروع ہوا، جسے بعد میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آگے بڑھایا۔ ان کے مطابق بعض پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی جبکہ گنے کے بھوسے سے چلنے والے کارخانوں میں بھی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق بعض صورتوں میں بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم جبکہ ادائیگی زیادہ رہی۔ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
پٹرولیم لیوی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ حکومت مقررہ ہدف سے بھی زیادہ رقم وصول کرچکی ہے اور اب تک عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد جمع کیے جاچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی رقم وصول کرنے کے باوجود ملکی ریفائنریوں کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا اور پٹرول ذخیرہ کرنے کا مؤثر نظام بھی نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت تقریباً 195 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی صورت میں صارفین سے فی لیٹر تقریباً 130 روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ موٹرسائیکل سواروں، عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں اور متوسط طبقے پر بھی بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔
ایف بی آر کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ ادارے میں سالانہ 1,300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، لیکن خامیاں دور کرنے کے بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاگیرداروں اور وڈیروں نے مجموعی طور پر صرف 12 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ تنخواہ دار طبقے سے سالانہ 700 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 79 برس سے ایک مخصوص طبقہ مختلف حکومتوں کی شکل میں عوام پر مسلط ہے۔ بیوروکریسی نوآبادیاتی نظام کا تسلسل ہے جو عوام کو غلام اور خود کو حاکم سمجھتی ہے۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کے پیغام پر حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد جاکر کسی کمیٹی سے بات نہیں کرے گی۔ جس نے مذاکرات کرنے ہیں وہ دھرنے کے مقام پر آئے، جماعت اسلامی اسے عزت دے گی اور بات چیت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن احتجاج کر رہی ہے اور یہ اس کا آئینی حق ہے۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا جاچکا ہے، تاہم کیس کی سماعت آگے نہ بڑھنے پر افسوس ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے دوٹوک اعلان کیا کہ مطالبات منظور ہونے تک دھرنے جاری رہیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب لیوی کے نام پر ’’جگا اور بھتہ ٹیکس‘‘ قبول نہیں کریں گے۔






