//

اب ڈی چوک نہیں، اڈیالہ جیل کی طرف جائیں گے، علیمہ خان

مردان (آئی این پی): بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ تحریک اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اس لیے پارٹی قیادت اور کارکنان کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب احتجاج کا رخ ڈی چوک نہیں بلکہ اڈیالہ جیل کی جانب ہوگا، جہاں عمران خان قید ہیں۔

مردان میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ اب صرف نعرے بازی کا وقت نہیں رہا، بلکہ تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مضبوط تنظیم سازی اور اندرونی اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے باہمی یکجہتی کو فروغ دیں، کیونکہ مخالفین چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف اندرونی اختلافات کا شکار رہے۔

انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی یہ شکایت کہ عوام سڑکوں پر نہیں نکل رہے، اسی وقت ختم ہوگی جب تنظیم مضبوط ہوگی۔ ان کے مطابق ورکرز اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ بڑھائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ عوام کسی ایک شخصیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق اور ملک میں موجود ظلم و ناانصافی کے نظام کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی اور مسلمان ایک ہیں اور کلمہ طیبہ ہم سب کو ایک مضبوط رشتے میں جوڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26 نومبر جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیے جائیں گے، نہ بچوں کی شہادتیں ہوں گی اور نہ بے گناہ لوگوں پر گولیاں چلانے کا موقع دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان گزشتہ تین برس سے قید ہیں اور گزشتہ نو ماہ سے شدید تنہائی میں رکھے گئے ہیں، اس لیے اب احتجاج کا مرکز اڈیالہ جیل ہوگا۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ مخالفین یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ عوام عمران خان کو بھول چکے ہیں اور تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے، تاہم سوات، چترال، بونیر، دیر اور مردان کے عوام نے سڑکوں پر نکل کر ان تمام دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں اور پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط بنائیں تاکہ آئندہ تحریک کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close