پاکستان میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مقامی تیاری کے لیے جامع پالیسی پر کام جاری، اویس لغاری
وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں خود کفالت، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
لاہور میں منعقدہ بیٹری انرجی کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج جدید بجلی کے نظام کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، کیونکہ ملک میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے بجلی کی طلب کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دن کے وقت سولر توانائی کی زیادہ پیداوار کے باعث بجلی کی طلب کم رہتی ہے، جبکہ شام کے اوقات میں طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے قومی گرڈ کو بجلی کی فراہمی اور طلب میں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اس مسئلے کا مؤثر حل فراہم کرتے ہیں۔ یہ سسٹمز دن کے وقت اضافی سولر توانائی کو محفوظ کر کے شام کے اوقات میں گرڈ کو فراہم کرتے ہیں، جس سے بجلی کے نظام کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، مہنگے پیکنگ پاور پلانٹس پر انحصار کم ہوتا ہے اور قابلِ تجدید توانائی کا مؤثر استعمال ممکن بنتا ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت نے بیٹری انرجی اسٹوریج کو قومی سطح پر ایک اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) سے متعلق وفاقی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے، جو مربوط قومی پالیسی کی تیاری اور ریگولیٹری و عملی اقدامات کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مؤثر پالیسیوں، مضبوط سرکاری و نجی شراکت داری اور مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کے ذریعے پاکستان نہ صرف بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کا بڑا صارف بنے گا بلکہ مستقبل میں اس شعبے میں علاقائی سطح پر مینوفیکچرنگ اور جدت طرازی کا اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






