پانی کو بطور ہتھیار بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی، نائب وزیراعظم کا بھارت سے بڑا مطالبہ

اسحاق ڈار کا بھارت سے سندھ طاس معاہدہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر بحال کرے، کہتے ہیں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد میں کروشیا کے وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ کروشیا کے وزیر خارجہ کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے اور مختلف مفاہمتی یادداشتوں کو بھی جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کروشین ویزا پراسیسنگ سہولت کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کو ویزا کے لیے کسی تیسرے ملک جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زرعی تحقیق، بندرگاہوں کے تعاون اور نجی شعبے کے روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا، جبکہ پاکستان 2027 میں جی ایس پی پلس اسکیم کے لیے دوبارہ درخواست دینے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا اقوام متحدہ کے منشور، خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ تنازع ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ناقابل قبول ہے اور اسے فوری طور پر مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ ایران، اسرائیل کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان نے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا، جبکہ یوکرین سمیت تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں موجود دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں اور افغان سرزمین کسی بھی ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں۔

اس موقع پر کروشیا کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، ٹیکنالوجی، صحت، خدمات اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا درخواست کا عمل مزید آسان بنانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close