اسحاق ڈار کا افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار، عالمی تعاون پر زور
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کا تعاون ضروری ہے۔
کروشیا کے وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور خیرسگالی موجود ہے۔ انہوں نے کروشین وزیر خارجہ اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے بعد کروشیا کے کسی اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ملاقاتوں میں پاکستان اور کروشیا کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق رابطہ کاری، پائیدار ترقی اور اقتصادی روابط کا فروغ دونوں ممالک کے مشترکہ وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بندرگاہ خطے میں تجارت اور رابطہ کاری کے فروغ کی وسیع صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ پاکستان اور کروشیا کی بندرگاہوں کے درمیان تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان نے سفارتی کوششیں کیں، جنہیں کروشیا کی جانب سے سراہا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں کروشین ویزا پراسیسنگ سہولت کے قیام کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے عوامی روابط اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






