لاہور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا، جبکہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا شدید معاشی بحران سے دوچار ہو سکتی تھی۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مؤثر سفارتکاری کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی بڑے بحران سے بچانے میں مدد ملی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ خطے میں امن ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ پاکستان نے پہلے دفاعی محاذ پر کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد سفارتی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی کا سہرا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو جاتا ہے۔ ان کے بقول وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کو مکمل اختیارات دیے، جس کے باعث بھارت کو مؤثر جواب دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ جاری رہتی تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا اور دنیا کے 193 ممالک اس کے معاشی اثرات سے متاثر ہوتے۔
احسن اقبال نے کہا کہ دورانِ جنگ پاکستان نے دونوں فریقوں کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جس کے باعث آج عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر معاشی محاذ پر کامیابی حاصل نہ کی گئی تو دفاعی اور سفارتی کامیابیاں بھی برقرار نہیں رہ سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے پرامن اور سازگار ماحول ناگزیر ہے اور پاکستانی قوم صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ملک کو دہشت گردی، توانائی بحران اور دیگر چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم بعد ازاں نئے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسند عناصر افغانستان فرار ہو گئے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو 2025 تک دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں میں شامل کرنے کا ہدف تھا، تاہم 2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس کی خرابی کے باعث ترقی کا سفر متاثر ہوا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






