ٹیکس ادائیگی! نان فائلرز کے لیے ایف بی آر کا نیا فارمولا سامنے آگیا

قائمہ کمیٹی نے نان فائلرز سے ٹیکس ادائیگی کے لیے ایف بی آر کا نیا فارمولا مسترد کردیا ، جس کے تحت گزشتہ 3 سال میں سب سے زیادہ ادا کیا گیا ٹیکس نئے حساب کا حصہ بنے گا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے تجویز کردہ متعدد سخت ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے نان فائلرز کے لیے ٹیکس ادائیگی کی نئی تعریف متعارف کرانے کی ایف بی آر کی اہم ترین تجویز مسترد کر دی۔

ممبر ایف بی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 182 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جس کے تحت گزشتہ 3 سال میں سب سے زیادہ ادا کیا گیا ٹیکس نئے حساب کا حصہ بنے گا اور ٹیکس قابلِ آمدن پر عائد ٹیکس یا گزشتہ 3 سال کا زیادہ ٹیکس قابلِ اطلاق ہوگا، تاہم کمیٹی نے اس نئے فارمولے کو منظور نہیں کیا۔

ایف بی آر حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے نئے انتظامی اختیارات تجویز کیے گئے ہیں جن کے تحت فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔

ایف بی آر کے نوٹس پر عمل نہ کرنے والوں اور بورڈ کی جانب سے طلبی کے باوجود معلومات فراہم نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

حکام کے مطابق پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے یہ جرمانہ 20 لاکھ روپے تک بڑھایا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close