بجلی چوری کا الزام تو لگاتے ہو، مگر بجلی روکنے کا یہ ظلم کون کر رہا ہے؟ پی ٹی آئی رہنما کا بڑا چیلنج


اسلام آباد قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شہرام خان ترکئی نے وزیرِ خزانہ اور بجٹ پر سخت تنقید کی ہے۔

ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شہرام ترکئی نے کہا کہ وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ 8765 سے کم کمائی والا شخص غربت کی لکیر سے نیچے ہے، وزیرِ خزانہ کے مطابق منرل واٹر اور کافی اس سے بھی مہنگی ہے۔

شہرام خان ترکئی نے کہا کہ غریب آدمی تو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے آئی ایم ایف جانے کا عوام کو بھی کوئی فائدہ تو ہو، مزید ٹیکس آپ بڑھا نہیں سکتے کیونکہ مزید گنجائش نہیں۔

شہرام خان ترکئی کا کہنا ہے کہ تمباکو سیکٹر میں 2 کمپنیوں کی اجارہ داری قائم کر دی گئی ہے جس سے باقی لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں بجلی کی چوری ہو رہی ہے، آپ چوروں کو روکیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہمیں ضرورت کے مطابق بجلی نہیں مل رہی، یہ کون سا ظلم ہے؟

شہرام ترکئی نے یہ بھی کہا کہ میثاقِ جمہوریت کے لئے تیار ہیں لیکن آغاز آپ نے کرنا ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، ٹمپریچر کیسے کم ہو گا؟

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close