زیارت: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی بغیر بلٹ پروف عام گاڑی میں سڑک کے راستے زیارت پہنچ گئے، جہاں وہ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کریں گے۔
روانگی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور حکومت عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کوئی بلوچستانی مشکل میں ہوگا، وہ خود اس کے پاس پہنچیں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ شہداء کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہونے اور انہیں حوصلہ دینے کے لیے زیارت آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف متحد ہو چکے ہیں، جبکہ پولیس کے جوانوں نے آخری سانس تک بہادری سے مقابلہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کی تعلیم، کفالت اور روشن مستقبل کی ذمہ داری حکومت بلوچستان اٹھائے گی اور انہیں کبھی یتیمی کا احساس نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کے جوان بلٹ پروف گاڑیوں کے بغیر دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہے ہوں تو ان کا ضمیر انہیں بلٹ پروف گاڑی میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے بقول زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ لاشوں پر سیاست کرنے کے بجائے دہشتگردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں، کیونکہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے اور قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زرقون اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس میں فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس مشترکہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا خون بہانے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






