اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے وفاقی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ پاکستان نے بنایا ہے یا آئی ایم ایف نے؟ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو بھی شاید بجٹ کے دن ہی معلوم ہوا ہوگا کہ اس میں کیا رکھا گیا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اس میں حکومت اپنی مرضی سے معمولی تبدیلی بھی نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کو اقتدار ملتا ہے تو اس کے رویے بدل جاتے ہیں۔ محسن نقوی اور محمد اورنگزیب جیسے افراد کو کبھی مسلم لیگ (ن) میں نہیں دیکھا گیا۔ ہم نے پی ڈی ایم کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وقت گزارا، لیکن بعد میں انہوں نے اندرونِ خانہ معاہدے کر لیے۔
ایمل ولی خان نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے پی ڈی ایم میں اے این پی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ ان کے بقول موجودہ حکومت مفلوج ہو چکی ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ نواز شریف کی سوچ اور نظریے کی عکاسی نہیں کرتا۔
بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ پاکستانی عوام کے ساتھ مذاق ہے، جس میں ٹیکسوں اور قرضوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا کو اس بجٹ میں کیا ملا؟
سربراہ اے این پی نے سرکاری نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ 140 کاروباری شعبوں کو اب تک ٹیکس نیٹ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






