بجٹ 2026-27: کس بڑے منصوبے کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

وفاقی حکومت کی جانب سے آج سہ پہر تین بجے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ اور سالانہ پلان کی تفصیلات بجٹ دستاویز کے ذریعے سامنے آ گئی ہیں جن میں آئندہ مالی سال کے بڑے اور ترجیحی منصوبوں سمیت معاشی اہداف کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

نئے مالی سال کے لیے حکومت نے مجموعی ملکی ترقی یعنی جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

آج سہ پہر تین بجے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے بارے میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بجٹ کو محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے، اور اس میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

اگلے مالی سال کے ترجیحی منصوبے

بجٹ دستاویز میں ملک کے بڑے ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے بھاری فنڈز مختص کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں جس کے تحت این 25 کوئٹہ کے لیے 100 ارب روپے، سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے، ایم ایل ون ریلوے منصوبے اور سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25، 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح دانش اسکولوں کی تعمیر کے لیے 22 ارب روپے، مہران ہائی وے اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 21، 21 ارب روپے، کراچی بلک واٹر سپلائی کے لیے 10 ارب روپے اور پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

توانائی اور آبی وسائل کے شعبے میں پاور سیکٹر کے لیے پی ایس ڈی پی سے 151 ارب روپے اور آبی وسائل کے لیے 74 ارب 92 کروڑ روپے مختص کرنے کا پلان ہے جبکہ قومی گرڈ میں بجلی کی پیداوار میں 3787 میگاواٹ اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نئے مالی سال کے لیے بڑے اہداف

بجٹ کی دستاویز کے مطابق حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، صنعت کا ہدف 4.5 فیصد، مینوفیکچرنگ کی ترقی کا ہدف 5.7 فیصد اور بڑی صنعتوں کی پیداوار کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا ہے۔

بجٹ میں سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد، برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات کا ہدف 11 ارب 30 کروڑ ڈالر، درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے ملک میں پانی کی دستیابی کو 63.5 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 84.2 ملین ایکڑ فٹ اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو 13.5 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 23.5 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف بھی طے کیا ہے۔

مختلف شعبہ جات کی ترقی اور روزگار کے حوالے سے بجٹ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کا ہدف 7 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے اور آئی ٹی سیکٹر میں ساڑھے سات ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

صنعتی شعبے کی ترویج کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران ملک بھر میں 637 چھوٹے صنعتی یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ سمندری امور اور ماحول کے تحفظ کے لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہازوں کی تعداد کو بڑھا کر 30 کیا جائے گا جبکہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے 23 نئے بلاکس کو آپریشنلائز کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی ماحولیاتی بہتری کے لیے آئندہ سال ملک بھر میں ایک کروڑ 13 لاکھ درخت لگانے کا ہدف بھی سالانہ پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close