فوجداری قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا گیا

فوجداری قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا گیا ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سی آر پی سی کے 55 قوانین میں ترامیم ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پاکستان کے فوجداری قوانین میں جدید تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق بڑے پیمانے پر ترامیم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیرِ قانون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پرانے قوانین برے نہیں ہوتے، لیکن بدلتے وقت کے ساتھ نئے قوانین بنانا ناگزیر ہو جاتا ہے اب چونکہ دنیا میں جدید ٹیکنالوجی آ چکی ہے، اسی حساب سے ہمارے قانونی نظام اور ضوابط میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

وزیرِ قانون نے واضح کیا کہ سال 1971ء اور 1991ء کے بعد اب تک ملکی قوانین میں اتنے بڑے پیمانے پر کوئی ترامیم نہیں کی گئی ہیں، یہ ایک طویل عرصے بعد بڑی اصلاحات ہونے جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی آر پی سی کے حوالے 55 قوانین ہیں، جن کی ترامیم کرنی ہیں ان ترامیم پر عجلت میں فیصلہ نہیں لیا جا رہا، بلکہ قوانین کی اس بڑی تبدیلی اور ترامیم کے حوالے سے گزشتہ تین سال سے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ قانون نے پارلیمانی عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام ترامیم پر تفصیلی بات چیت اور تمام مسائل کا مستقل حل نکالنے کے لیے کم از کم چار دن درکار ہیں، تاکہ ہر پہلو پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے اور ایک جامع قانون سامنے آئے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close