وفاقی بجٹ پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈ لاک ! وجوہات سامنے آگئیں

اسلام آباد: پیپلزپارٹی اور حکومت کے درمیان بجٹ پر ڈیڈ لاک کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بجٹ کا تفصیلی مسودہ متعدد بار مانگنے کے باوجود فراہم نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے آخری مراحل میں حکومت اور اس کی اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات سنگین رخ اختیار کر گئے ہیں اور دونوں کے درمیان ڈیڈ لاک کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ سے متعلق طے شدہ سیاسی معاہدے کے تحت پیپلز پارٹی کو بجٹ کی تفصیلی دستاویزات اور مسودہ فراہم کرنے کی پابند ہے، تاہم متعدد بار مطالبے کے باوجود حکومت نے تاحال تفصیلی مسودہ فراہم نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی ترقیاتی پروگرام اور نئے ٹیکسز کی تفصیلات کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کر رہی، جبکہ بجٹ میں کون سے نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں اور پرانے ٹیکسز کی شرح میں کتنا اضافہ ہوگا، اس حوالے سے بھی پیپلز پارٹی کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم لیوی اور دیگر مالیاتی تفصیلات کے بارے میں بھی پیپلز پارٹی کو تاحال اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو بجٹ میں شامل ترقیاتی اسکیموں پر بھی شدید تحفظات ہیں۔ سیاسی معاہدے کے تحت چاروں صوبوں سے پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ ترقیاتی منصوبے وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حصہ بننے تھے، تاہم حکومت کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت کسی بھی صوبے کے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ حکومت سے بجٹ معاہدے پر مکمل عملدرآمد چاہتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو پیپلز پارٹی بجٹ سیشن کے حوالے سے اپنا اگلا سخت لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close