اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ 5 جون کے بجائے 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بجٹ کی تاریخ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مزید مشاورت کے لیے تبدیل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے اور ان کی تجاویز شامل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اتحادی حکومتوں کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، ایک بجٹ کی تیاری اور دوسرا اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دونوں معاملات کو احسن انداز میں نمٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر پارلیمانی امور نے واضح کیا کہ بجٹ پیش کرنے میں تاخیر کا گلگت بلتستان کے انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی ایک اہم اور اچھی اتحادی ہے اور تمام معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے جا رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں طارق فضل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی گروپ کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہلے اپنی اندرونی لڑائیاں ختم کرنی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت مداخلت کرنا چاہے تو دو دن میں سہیل آفریدی کی حکومت گر سکتی ہے، تاہم حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور وہ جمہوری عمل کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






