اگلے مالی سال کے بجٹ میں کیا کچھ سستا ہونے جا رہا ہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔ نئے بجٹ میں مختلف اشیا پر درآمدی، ریگولیٹری، کسٹم ڈیوٹیز کم ہونے کا امکان ہے۔
آئندہ بجٹ میں درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے جب کہ امپورٹڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی کم ہو سکتی ہے۔
ایکسپورٹ انڈسٹری کے خام مال پر عائد ٹیرف میں کمی لائے جانے کا امکان ہے اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی کی مشینری اور آلات پر بھی ٹیکس میں کمی ہو سکتی ہے۔
بجٹ میں ایکسپورٹ انڈسٹری کیلیے سیکڑوں خام مال سستے ہونے کا امکان ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت صنعت و تجارت نے نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف اہداف کے مطابق ٹیرف کم کیا جائے گا تاکہ مقامی صنعت مقابلے کے قابل ہو سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں درآمدی اشیا کی 3 ہزار 149 ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کم ہو سکتی ہے جب کہ درآمدی اشیا کی 1900 سے زائد ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں بھی کمی کا امکان ہے۔
بجٹ میں زراعت سے وابستہ درآمدی خام مال پر بھی ٹیکسز کم کیے جانے کا امکان ہے۔ مقامی طور پر تیار نہ ہونے والے زرعی آلات، مشینری اور پرزوں پر امپورٹ ڈیوٹی کم ہو سکتی ہے۔ حکومت 15 فیصد والے سلیب کی 518 ٹیرف لائنز پر باقی 2 فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی بھی ختم کر دے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ 20 فیصد والے سلیب کی 2 ہزار 166 لائنز پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی 4 سے کم کر کے 2 فیصد اور 20 فیصد سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی والی 468 لائنز پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی 6 سے کم کر کے 4 فیصد ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں اور بائیک کا پلانٹ لگانے کی مشینری اور آلات پر اضافی کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






