وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت یا للکار کا مظاہرہ کیا تو پاکستان سخت جواب دے گا اور بھارت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ماضی میں بھی اپنی کارروائیوں کا جواب بھگت چکا ہے اور اسے وہ سبق ابھی تک یاد ہے۔
خواجہ آصف نے افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود حکام کے ساتھ مختلف ادوار میں رابطے اور ملاقاتیں رہی ہیں، جن میں افغان قیادت اور مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر دفاع نے ایران کے حوالے سے کہا کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ خطے کے دیگر ممالک جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر واضح کیا کہ اس حوالے سے کابینہ میں تاحال کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی۔
سندھ طاس معاہدے کے بارے میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ معاہدہ گزشتہ 66 سال سے کامیابی سے چل رہا ہے اور اس میں تنازعات کے حل کا مکمل طریقہ کار موجود ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






