پاکستانی سائبر فورس نے بھارتی فوج کے ہوش اڑا دیے

معرکہ حق کے دوران پاکستان نے فضائی اور زمینی لڑائی کے ساتھ ساتھ سائبر اسپیس میں دشمن کے خلاف جارحانہ اور دفاعی حکمت عملی اپنائی، جس میں پاک فضائیہ اور سائبر فورس نے کلیدی کردار ادا کیا۔

پاکستان کی جانب سے آپریشن سالار میں بھارت پر ایسا کاری وار کیا گیا کہ دشمن اس زخم کو طویل مدت تک چاٹتا رہے گا، پاکستانی شاہینوں نے ہندوستان کی چار بڑی ویب سائٹس ہیک کرلیں۔

سائبر سیکیورٹی کے ماہر عبدالقادر نے بتایا کہ دور جدید کی جنگوں میں سائبر وار فیئر فیصلہ کن ہتھیار بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ’انٹیگریٹڈ وار فیئر‘ کا تصور سامنے آچکا ہے، جس میں روایتی جنگ کے ساتھ سائبر حملے، ڈیجیٹل نگرانی اور اطلاعاتی جنگ کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر کے مطابق کسی بھی ملک کے اہم نظام کو بغیر خون بہائے سائبر حملوں کے ذریعے مفلوج کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائبر وار فیئر کے ذریعے بینکنگ سسٹم، اسٹاک ایکسچینج، اسپتالوں کے انتظامی نظام، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ پروپیگنڈا اور غلط معلومات کے ذریعے عوامی رائے کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔

عبدالقادر کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سائبر محاذ پر بھی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں مختلف ویب سائٹس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور حساس نظاموں کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سائبر جنگیں مزید خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خودکار ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جدید سائبر ٹیکنالوجیز، ماس سرویلنس، فیشل ریکگنیشن اور ایڈوانس ریکگنائزنس سسٹمز کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت اور عسکری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جاسکتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی کے ماہر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ روس یوکرین جنگ سمیت دنیا کے کئی تنازعات میں سائبر وارفیئر نے اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ دفاعی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی ناگزیر ہوچکی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close