پاکستان کا ہیلتھ کیئر نہیں، ’سک کیئر سسٹم‘ چل رہا ہے، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد:  وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو سک کیئر سسٹم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ سٹریٹجی تیار کر لی ہے۔مصطفی کمال کا صحت اور غذائیت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا پاکستان کا موجودہ نظامِ صحت صرف بیماریوں کے علاج تک محدود ہے، ہمیں بیماریوں کے انتظار کے بجائے پریوینٹیو ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا۔ صرف ہسپتال بنانا اور ڈاکٹرز بھرتی کرنا کافی نہیں، پورا ایکو سسٹم بدلنا ہوگا، عوام کو بھی صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ضرورت ہے، صحت کے بنیادی نظام کو مضبوط کیا جارہا ہے، لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ترجیح ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث صحت کے نظام پر بوجھ بڑھ رہا ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی پر قابو پانا بھی ضروری ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی صحت کے نظام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔کورونا نے ثابت کیا کہ بڑے بڑے ملکوں کے ہیلتھ سسٹم بھی دبا میں آسکتے ہیں، دنیا کی کوئی سپر پاور بھی ایک وقت میں تمام لوگوں کے بیمار پڑنے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ وزارتِ صحت نے عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ سٹریٹجی تیار کرلی ہے، ہمارا مقصد ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنا اور عوام کو تندرست رکھنا ہے، ہمیں اپنے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close