ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اشیائے خورونوش اور ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
بیکری مصنوعات اور آٹا:
گندم اور میدے کی قیمتوں میں استحکام کے باوجود بیکری آئٹمز کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ لارج بریڈ 20 روپے اضافے کے ساتھ 220 روپے اور سمال بریڈ 120 روپے کی ہوگئی ہے۔ مارکیٹ میں 5 کلو آٹا 500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
گندم اور میدے کی قیمتوں میں استحکام کے باوجود بیکری آئٹمز کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ لارج بریڈ 20 روپے اضافے کے ساتھ 220 روپے اور سمال بریڈ 120 روپے کی ہوگئی ہے۔ مارکیٹ میں 5 کلو آٹا 500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
گھی اور کوکنگ آئل:
گھی اور آئل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر برقرار ہیں۔ درجہ اول گھی 590 روپے فی کلو اور آئل 595 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے، جبکہ درجہ سوم کے نرخ بھی 475 روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
گھی اور آئل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر برقرار ہیں۔ درجہ اول گھی 590 روپے فی کلو اور آئل 595 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے، جبکہ درجہ سوم کے نرخ بھی 475 روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
ایل پی جی کی بلیک مارکیٹ:
سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خور سرگرم ہو گئے ہیں۔ 304 روپے فی کلو والا سرکاری ریٹ ہوا میں اڑا دیا گیا ہے اور اوپن مارکیٹ میں گیس 450 سے 550 روپے فی کلو تک من مانے ریٹ پر فروخت ہو رہی ہے۔
سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خور سرگرم ہو گئے ہیں۔ 304 روپے فی کلو والا سرکاری ریٹ ہوا میں اڑا دیا گیا ہے اور اوپن مارکیٹ میں گیس 450 سے 550 روپے فی کلو تک من مانے ریٹ پر فروخت ہو رہی ہے۔
عوامی مطالبہ:
تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






